علم لدنی

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - وہ علم جو محض فیض الہٰی و القائے ربانی سے حاصل ہوا ہو اور اس میں اپنی محنت یا کسی استاد کی تعلیم کا دخل نہ ہو۔ "دنیا میں کوئی بڑی ہستی نہیں جو علم سے بے نیاز ہو حتٰی کہ پیغمبر بھی علم لدنی ہی کے سہارے چلتا ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، طوبٰی، ٦٣٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'علم' کے بعد عربی ہی سے مشتق اسم 'لدن' کے بعد 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ علم جو محض فیض الہٰی و القائے ربانی سے حاصل ہوا ہو اور اس میں اپنی محنت یا کسی استاد کی تعلیم کا دخل نہ ہو۔ "دنیا میں کوئی بڑی ہستی نہیں جو علم سے بے نیاز ہو حتٰی کہ پیغمبر بھی علم لدنی ہی کے سہارے چلتا ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، طوبٰی، ٦٣٧ )

جنس: مذکر